قریب الفہم

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - سمجھ میں آنے والا۔ "اس بات کا خیال رکھا کہ اس کی زبان اہل مجلس اور خصوصاً عورتوں کے لیے قریب الفہم ہو۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ١٠٢٩:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت 'قریب' کے ساتھ 'ا ل' بطور حرف تخصیص لگانے کے بعد عربی زبان سے ماخوذ اسم 'فہم' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٠٢ء میں "ہفت گلشن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سمجھ میں آنے والا۔ "اس بات کا خیال رکھا کہ اس کی زبان اہل مجلس اور خصوصاً عورتوں کے لیے قریب الفہم ہو۔"      ( ١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ١٠٢٩:٢ )